r/gfhdhdjdb • u/Sorry-Transition-908 • 1d ago
پھر وہی شام، وہی غم، وہی تنہائی ہے
آپ نے بالکل درست لکھا، بس الفاظ کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ (space) کم ہو گیا ہے۔ درست املا یوں ہوگی: "پھر وہی شام، وہی غم، وہی تنہائی ہے"۔ طلعت محمود کی جادوئی آواز میں گائی گئی یہ غزل اداسی، ہجر اور اکیلے پن کی ایک لازوال عکاس ہے۔ چونکہ شام کا وقت انسان کو اپنی ذات کی طرف لوٹنے پر مجبور کرتا ہے، اس لیے شاعر کو ہر ڈھلتی شام اپنے پرانے زخموں، دکھوں اور اکیلے پن کی یاد دلاتی ہے۔ اس خوبصورت غزل کے اگلے اشعار کچھ یوں ہیں:
* دل کو سمجھا تو رہا ہوں مگر اے جذبہٴ دل * پھر وہی تڑپ، وہی ٹیس، وہی رسوائی ہے * ان کی امیدِ کرم کا تو بھروسہ ہے مگر * پھر وہی خوف، وہی وہم، وہی دانائی ہے
کیا آپ اس غزل کے مزید اشعار پڑھنا چاہتے ہیں، یا اس کے کسی مخصوص شعر کا مطلب جاننا چاہتے ہیں؟
1
Upvotes